Dec 6, 2017

ہم میسر ہیں سہارا کیجے

ہم میسر ہیں سہارا کیجے
جب بھرے دل تو کنارا کیجے
آپ پہ طے ہے بہار آنی ہے
دو گھڑی ہم پہ گزارا کیجے
ہم بھی آنسو ہیں چھلک جائیں گے
بس ذرا دیر گوارا کیجے
روئیے کھول کے دل اچھا ہے
کاہے یہ فرض ادھارا کٰیجے
آئینہ ہم کو سمجھ لیجے کبھی
اور پھر خود کو سنوارا کیجے
کچھ تعلق کا گماں ہوتا ہے
یونہی بے وجہ پکارا کیجے
خواب میں کر کے گزر پھر اپنا
کچھ تو امید ابھارا کیجے
جب کوئی صبح نئی مل جائے
ہم کو بھی ڈوبا ستارا کیجے
جائیے آپ اجازت ہے مری
اب کوئی اور بے چارا کیجے
یہ جو سامان میں دو آنسو ہیں
ان پہ بس نام ہمارا کیجے
دل جو پھر چاہے کوئی توڑنا دل 
ہم پہ ہی کرم دوبارہ کیجے
جو فراموش ہوے ہو ابرک
آپ بھی عقل خدارا کیجے
ایک سے ایک حسیں ملتے ہیں
منتظر ہیں کہ اشارا کیجے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اتباف ابرک

میں خود پرست ہوگیا ہوں۔

تُم اپنے لب کاٹ کاٹ کر
ہر لفظ کو بے عنوان کر دیتی ہو
میں بھی احساس کی لَو کو
ہنسی کی ہوا سے بُجھا دیتا ہوں
تُم چاہتی ہو تجدیدِ محبت میں کروں
میں چاہتا ہوں کہ تُم مجھے حیرت میں ڈالو
وہ ایک بات جو ہمیں کہنی ہے
مگر ہم کہہ نہیں پاتے کہ ۔۔۔۔
جانے کس منزل پر آکر ہم کھڑے ہیں
جہاں تُم اَنا پرست بن گئے ہو
اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں خود پرست ہوگیا ہوں۔

بہت تکلیف دیتا ہے کسی کو الوداع کہنا

بہت تکلیف دیتا ہے کسی کو الوداع کہنا
دکھائی کچھ نہیں دیتا سنائی کچھ نہیں دیتا
فقط کچھ کپکپاتے لفظ جو ہونٹوں پر ٹھہر جائیں
ابھرتی ڈوبتی دھڑکن اسے آواز دیتی ہے
کوئی اپنا کے جس کا نام اپنے دل پے لکھا ہو
کے جس کے واسطے دل سے دعائیں ہی نکلتی ہوں
بہت تکلیف دیتا ہے اسی کو الوداع کہنا
جسے دل میں بسایا ہو بیری ہی مان سے
جسکو کبھی اپنا بنایا ہو بہت تکلیف ہوتی ہے
بہت تکلیف دیتا ہے اسی کو الوداع کہنا . . .

بہت تکلیف دیتا ہے اسی کو الوداع کہنا .

Dec 5, 2017

نہ تصاویر ، نہ تزئین سے بن سکتی تھی

نہ تصاویر ، نہ تزئین سے بن سکتی تھی
یہ غزل اچھی ، مضامین سے بن سکتی تھی
سات کے سات بھرے رنگ تری آنکھوں میں
ورنہ تصویر تو دو تین سے بن سکتی تھی
تم نے مانگی ہی نہیں ساتھ دعائیں میرے
بات بگڑی ہوئی آمین سے بن سکتی تھی..
تم نے بدلا ہے جو منظر کو بہت عجلت میں
یہ کہانی تو اسی سین سے بن سکتی تھی
دشمنا ! تیری عداوت سے مھے فرق نہیں
پر لڑائی مری توہین سے بن سکتی تھی
مذہب - عشق میں رتبے نہیں دیکھے جاتے
ہم فقیروں کی اسی دین سے بن سکتی تھی
چار دیواری اٹھانے کو تھی ہمت درکار........
چھت کا کیا ہے وہ کسی ٹین سے بن سکتی تھی

Dec 4, 2017

جہاں پر تم نے چھوڑا تھا

جہاں پر تم نے چھوڑا تھا
وہیں موجود ہوں شاید بہت محدود ہوں
دیکھو ابھی تک کچھ نہیں بدلا
مِرے بستر پہ وہ ہی رات تکیے سے لپٹ کر رو رہی ہے
جس کا ہم نےـوصل کی شب نام رکھا تھا
مرے کمرے کی اک دیوار پہ تصویر میں وہ شام کامنظر
تمہاری یاد میں ڈوبا ہی رہتاہے
اذیت سے بھرا اک دکھ
ابھی تک میز پر رکھے ہوئے کاغذ کے ٹکڑے پر پڑا ہے
جو محبت کے کسی بھی آخری جملے میں ہوتا ہے
محبت اور نفرت کا ہر اک لمحہ مرے سینے میں رکھا ہے
نہ جانے جرم کیا ہے اور کیسی قید ہے جس میں
میں اپنے جسم کا ہر ایک حصہ قید پاتا ہوں
چلوں توپائوں میں وعدوں کی زنجیریں کھنکتی ہیں
کہیں بھی جا نہیں سکتا
ابھی تک کچھ نہیں بدلا
جہاں پر تم نے چھوڑا تھا
وہیں موجود ہوں شاید بہت محدود ہوں

مرحوم زندگی کی حراست میں

مرحوم !
مرحوم زندگی کی حراست میں مر گیا 
سخت دل تھا اتنا_ نفاست سے مر گیا
وہ ایک شخص انوکھا ہی سخی تھا کہ جو 
اپنے ہی دل کی _ سخاوت سے مر گیا
حاصل کچھ نا ادھر سے آیا، نا ادھر سے 
اپنے قبیلے سے کی ہوئی بغاوت میں مر گیا
لوگ کہا کرت تھے صاف دل ہے بہت 
لوگ کہتے ہیں _عداوت سے مر گیا
مرحوم زندگی کی حراست میں مر گیا 
سخت دل تھا اتنا_ نفاست سے مر گی
  سرور بن مظفر

پرائی نیند میں سونے کا تجربہ کر کے

پرائی نیند میں سونے کا تجربہ کر کے 
میں خوش نہیں ہوں تجھے خود میں مبتلا کر کے 
یہ کیوں کہا ؟ کے تجھے مجھ سے پیار ھو جائے ؟؟
تڑپ اُٹھا ھوں تیرے حق میں بد دعا کر کے 
میں جُوتیوں میں بھی بیٹھا ھوں پورے مان کے ساتھ
کسی نے مجھ کو بُلایا ھے، التجا کر کے
تو پھر وہ روتے ھوئے منتیں بھی مانتے ہیں
جو انتہا نہیں کرتے ہیں، ابتداء کر کے
بشر سمجھ کے کیا تھا نہ یوں نظر انداز ؟؟
لے میں بھی چھوڑ رہا ھوں تجھے خُدا کر کے
منا بھی لونگا، گلے بھی لگاؤنگا میں علی
ابھی تو دیکھ رہا ہوں اُسے خفا کر کرکے

علی زریون