Dec 4, 2017

مرحوم زندگی کی حراست میں

مرحوم !
مرحوم زندگی کی حراست میں مر گیا 
سخت دل تھا اتنا_ نفاست سے مر گیا
وہ ایک شخص انوکھا ہی سخی تھا کہ جو 
اپنے ہی دل کی _ سخاوت سے مر گیا
حاصل کچھ نا ادھر سے آیا، نا ادھر سے 
اپنے قبیلے سے کی ہوئی بغاوت میں مر گیا
لوگ کہا کرت تھے صاف دل ہے بہت 
لوگ کہتے ہیں _عداوت سے مر گیا
مرحوم زندگی کی حراست میں مر گیا 
سخت دل تھا اتنا_ نفاست سے مر گی
  سرور بن مظفر

پرائی نیند میں سونے کا تجربہ کر کے

پرائی نیند میں سونے کا تجربہ کر کے 
میں خوش نہیں ہوں تجھے خود میں مبتلا کر کے 
یہ کیوں کہا ؟ کے تجھے مجھ سے پیار ھو جائے ؟؟
تڑپ اُٹھا ھوں تیرے حق میں بد دعا کر کے 
میں جُوتیوں میں بھی بیٹھا ھوں پورے مان کے ساتھ
کسی نے مجھ کو بُلایا ھے، التجا کر کے
تو پھر وہ روتے ھوئے منتیں بھی مانتے ہیں
جو انتہا نہیں کرتے ہیں، ابتداء کر کے
بشر سمجھ کے کیا تھا نہ یوں نظر انداز ؟؟
لے میں بھی چھوڑ رہا ھوں تجھے خُدا کر کے
منا بھی لونگا، گلے بھی لگاؤنگا میں علی
ابھی تو دیکھ رہا ہوں اُسے خفا کر کرکے

علی زریون

بہت تھک چکا ہوں

بہت تھک چکا ہوں
یہی خود کو لکھنا اذیت کا سہنا
محبت کی نظمیں مکمل نہ ہونی
ہوا کا کوئی بھید مجھ پر نہ کھُلنا
میں کیا کر رہا ہوں
خبر بھی نہیں ہے کسے لکھ رہا ہوں
بہت تھک چکا ہوں
وہی جھیل اور جھیل کا اِک کنارا
وہ قصہ ہمارا
وہی نامکمل کہانی بھُلائے نہ بھولے
وہی چند پتھر ۔۔۔لرزتے ہوئے عکس
وہی جھیل کا رقص
وہی کیفیت تنگ ہونے لگا ہوں
بہت تھک چکا ہوں
بدن میں تھکاوٹ نہیں پر مِری آتما تھک چکی ہے
مسافت بھی جیسے بہت بڑھ چکی ہے
تذبذب ہے سکتہ ہے سانسوں کی لے ٹوٹتی جا رہی ہے
کوئی ساتھ ہے چھوٹتا جا رہا ہے
مِرے ہاتھ پائوں بھی شل ہو رہے ہیں
میں پانی میں اب ڈوبتا جا رہا ہوں
بہت تھک چکا ہوں.....

Dec 3, 2017

تو کہیں بھیگتا نہ ہو تنہا !

تو کہیں بھیگتا نہ ہو تنہا ! 
ایک دھڑکا لگا گئی بارش
بند کھڑکی کے صاف شیشوں پر
عکس تیرا بنا گئی بارش
وقتِ رُخصت تجھے نہیں معلوم 
کتنے آنسو چھپا گئی بارش
قطرہ قطرہ گِری مگر پھر بھی 
زخم گہرا لگا گئی بارش

ڈاکٹر احمد ندیم رفیع

وہی بے ربط یارانے ٗ وہی فنکاریاں اس کی

وہی بے ربط یارانے ٗ وہی فنکاریاں اس کی
بڑا بے چین کرتی ہیں تعلق داریاں اس کی
محبت کر کے بھی اس نے بدلی نہیں عادت
نہ اچھی رنجشیں, نہ اچھی یاریاں اس کی
بہت تکلیف دیتی ہیں کہ دونوں کو نہیں بھاتیں
اسے آسانیاں میری ٗ مجھے دشواریاں اس کی
کئی دن سے فقط اک خامشی کا ربط قائم ہے
بہت یاد آ رہی ہیں آج دل آزاریاں اس کی
کہاں تک ساتھ چل سکتے تھے ہم کہانی میں
ادھر میری جنوں خیزی ادھر بیزاریاں اس کی ___!!

Dec 2, 2017

میرے رشک قمر تو نے پہلی نظر جب نظر سے ملائی مزا آ گیا


میرے رشک قمر تو نے پہلی نظر جب نظر سے ملائی مزا آ گیا 
برق سی گر گئی کام ہی کر گئی آگ ایسی لگائی مزا آ گیا 
جام میں گھول کر حسن کی مستیاں چاندنی مسکرائی مزہ آ گیا 
چاند کے سائے میں اے مرے ساقیا تو نے ایسی پلائی مزہ آ گیا 
نشہ شیشے میں انگڑائی لینے لگا بزم رنداں میں ساگر کھنکنے لگا 
میکدے پہ برسنے لگیں مستیاں جب گھٹا گھر کے آئی مزہ آ گیا 
بے حجابانہ وہ سامنے آ گئے اور جوانی جوانی سے ٹکرا گئی 
آنکھ ان کی لڑی یوں مری آنکھ سے دیکھ کر یہ لڑائی مزہ آ گیا 
آنکھ میں تھی حیا ہر ملاقات پر سرخ عارض ہوئے وصل کی بات پر 
اس نے شرما کے میرے سوالات پہ ایسے گردن جھکائی مزہ آ گیا 
شیخ‌ صاحب کا ایمان بک ہی گیا دیکھ کر حسن ساقی پگھل ہی گیا 
آج سے پہلے یہ کتنے مغرور تھے لٹ گئی پارسائی مزہ آ گیا 
اے فناؔ شکر ہے آج باد فنا اس نے رکھ لی مرے پیار کہ آبرو 
اپنے ہاتھوں سے اس نے مری قبر پہ چادر گل چڑھائی مزہ آ گیا

وقت ہے آخری، آخری سانس ہے

وقت ہے آخری، آخری سانس ہے
زندگی کی ہے شام، آخری آخری
سنگ دل آ بھی جا، اب خُدا کے لئیے
لب پہ ہے تیرا نام، آخری آخری
کیسے تنہا کٹے گا عدم کا سفر
اس سے کہنا اسے ڈھونڈتی ہے نظر
نامہ بر تو خُدارا نہ اب دیر کر
دے دے اُن کو پیغام، آخری آخری
میرے یاروں نے نہلا کے کفنا دیا
دو گھڑی بھی نہ بیتی کہ دفنا دیا
کون کرتا ہے غم، ٹوٹتے ہی یہ دم
کر دیا انتظام______آخری آخری
جیتے جی قدر میری کسی نے نہ کی
زندگی بھی رضا، بے وفا ہو گئی
دنیا والو مبارک یہ دنیا تمہیں
کر چلے ہم سلام، آخری آخری