Dec 4, 2017

بہت تھک چکا ہوں

بہت تھک چکا ہوں
یہی خود کو لکھنا اذیت کا سہنا
محبت کی نظمیں مکمل نہ ہونی
ہوا کا کوئی بھید مجھ پر نہ کھُلنا
میں کیا کر رہا ہوں
خبر بھی نہیں ہے کسے لکھ رہا ہوں
بہت تھک چکا ہوں
وہی جھیل اور جھیل کا اِک کنارا
وہ قصہ ہمارا
وہی نامکمل کہانی بھُلائے نہ بھولے
وہی چند پتھر ۔۔۔لرزتے ہوئے عکس
وہی جھیل کا رقص
وہی کیفیت تنگ ہونے لگا ہوں
بہت تھک چکا ہوں
بدن میں تھکاوٹ نہیں پر مِری آتما تھک چکی ہے
مسافت بھی جیسے بہت بڑھ چکی ہے
تذبذب ہے سکتہ ہے سانسوں کی لے ٹوٹتی جا رہی ہے
کوئی ساتھ ہے چھوٹتا جا رہا ہے
مِرے ہاتھ پائوں بھی شل ہو رہے ہیں
میں پانی میں اب ڈوبتا جا رہا ہوں
بہت تھک چکا ہوں.....

Dec 3, 2017

تو کہیں بھیگتا نہ ہو تنہا !

تو کہیں بھیگتا نہ ہو تنہا ! 
ایک دھڑکا لگا گئی بارش
بند کھڑکی کے صاف شیشوں پر
عکس تیرا بنا گئی بارش
وقتِ رُخصت تجھے نہیں معلوم 
کتنے آنسو چھپا گئی بارش
قطرہ قطرہ گِری مگر پھر بھی 
زخم گہرا لگا گئی بارش

ڈاکٹر احمد ندیم رفیع

وہی بے ربط یارانے ٗ وہی فنکاریاں اس کی

وہی بے ربط یارانے ٗ وہی فنکاریاں اس کی
بڑا بے چین کرتی ہیں تعلق داریاں اس کی
محبت کر کے بھی اس نے بدلی نہیں عادت
نہ اچھی رنجشیں, نہ اچھی یاریاں اس کی
بہت تکلیف دیتی ہیں کہ دونوں کو نہیں بھاتیں
اسے آسانیاں میری ٗ مجھے دشواریاں اس کی
کئی دن سے فقط اک خامشی کا ربط قائم ہے
بہت یاد آ رہی ہیں آج دل آزاریاں اس کی
کہاں تک ساتھ چل سکتے تھے ہم کہانی میں
ادھر میری جنوں خیزی ادھر بیزاریاں اس کی ___!!

Dec 2, 2017

میرے رشک قمر تو نے پہلی نظر جب نظر سے ملائی مزا آ گیا


میرے رشک قمر تو نے پہلی نظر جب نظر سے ملائی مزا آ گیا 
برق سی گر گئی کام ہی کر گئی آگ ایسی لگائی مزا آ گیا 
جام میں گھول کر حسن کی مستیاں چاندنی مسکرائی مزہ آ گیا 
چاند کے سائے میں اے مرے ساقیا تو نے ایسی پلائی مزہ آ گیا 
نشہ شیشے میں انگڑائی لینے لگا بزم رنداں میں ساگر کھنکنے لگا 
میکدے پہ برسنے لگیں مستیاں جب گھٹا گھر کے آئی مزہ آ گیا 
بے حجابانہ وہ سامنے آ گئے اور جوانی جوانی سے ٹکرا گئی 
آنکھ ان کی لڑی یوں مری آنکھ سے دیکھ کر یہ لڑائی مزہ آ گیا 
آنکھ میں تھی حیا ہر ملاقات پر سرخ عارض ہوئے وصل کی بات پر 
اس نے شرما کے میرے سوالات پہ ایسے گردن جھکائی مزہ آ گیا 
شیخ‌ صاحب کا ایمان بک ہی گیا دیکھ کر حسن ساقی پگھل ہی گیا 
آج سے پہلے یہ کتنے مغرور تھے لٹ گئی پارسائی مزہ آ گیا 
اے فناؔ شکر ہے آج باد فنا اس نے رکھ لی مرے پیار کہ آبرو 
اپنے ہاتھوں سے اس نے مری قبر پہ چادر گل چڑھائی مزہ آ گیا

وقت ہے آخری، آخری سانس ہے

وقت ہے آخری، آخری سانس ہے
زندگی کی ہے شام، آخری آخری
سنگ دل آ بھی جا، اب خُدا کے لئیے
لب پہ ہے تیرا نام، آخری آخری
کیسے تنہا کٹے گا عدم کا سفر
اس سے کہنا اسے ڈھونڈتی ہے نظر
نامہ بر تو خُدارا نہ اب دیر کر
دے دے اُن کو پیغام، آخری آخری
میرے یاروں نے نہلا کے کفنا دیا
دو گھڑی بھی نہ بیتی کہ دفنا دیا
کون کرتا ہے غم، ٹوٹتے ہی یہ دم
کر دیا انتظام______آخری آخری
جیتے جی قدر میری کسی نے نہ کی
زندگی بھی رضا، بے وفا ہو گئی
دنیا والو مبارک یہ دنیا تمہیں
کر چلے ہم سلام، آخری آخری

Nov 30, 2017

یہ رقصِ شامِ غم ہے اور مَیں ہوں

یہ رقصِ شامِ غم ہے اور مَیں ہوں
محبت محترم ہے اور مَیں ہوں
پہاڑوں پر پرندے جاگتے ہیں
دعائے صُبحِ دم ہے اور مَیں ہوں
مِرے ہونٹوں پہ اِک حرفِ دعا ہے
تِری چشمِ کرم ہے اور مَیں ہوں
سَرساحل یہ بِکھری سیپیاں ہیں
ہَََوائے تازہ دَم ہے اور مَیں ہوں
کِسی کی یاد کے تنہا سفر میں
یہ میری چشمِ نم ہے اور مَیں ہوں
بدن پر بَین کرتی خامُشی ہے
تِری مشقِ ستم ہے اور مَیں ہوں
دِییے آنکھوں کے, بُجھتے جا رہے ہیں
کوئ شہرِ الم ہے اور مَیں ہوں

اِک نَظر کاسہءِ حیات میں رَکھ

اِک نَظر کاسہءِ حیات میں رَکھ
خُود کو جیت اور مُجھکو مات میں رکھ
رکھ کہ تُو بُھول جا مُجھے بیشک
اور سمجھ ٹُوٹا پُھوٹا سامان ہے
گھر کے اُجڑے ہُوۓ کونے میں کہیں
چاھے تو فالتُو کباڑ میں رکھ
تُو سجا آنگنوں میں اپنے پُھول
مُجھکو بیشک کہیں اُجا ڑ میں رکھ
رکھتے ہیں مان پھیلے دامن کا
چاک دامَن ہُوں یہ گَیان میں رکھ
ٹھوکروں تک کا سَنگ نظر میں رہے
مُجھکو بھی تھوڑا سادھیان میں رَکھ
میں اگَر جاؤُں مُخالف تیرے تو میں کافِر
میرا ہر اِک قدم تُو گھات میں رَکھ
ایک پل کو جو بِہکوں دائرہءِ مُحبَّت سے
خُود کو تُودے ثَبات اور مُجھے مَمات میں رَکھ